مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی 70ویں جنرل کانفرنس ویانا میں شروع ہوگئی، جس میں ایجنسی کے 181 رکن ممالک کے نمائندے جوہری توانائی، جوہری تحفظ و سلامتی اور ایجنسی کی سرگرمیوں سے متعلق امور کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یہ اجلاس ویانا انٹرنیشنل سینٹر میں شروع ہوا اور 18 ستمبر تک جاری رہے گا۔ اسے ایجنسی کا اہم ترین پالیسی سازی فورم قرار دیا جاتا ہے، جہاں رکن ممالک ایجنسی کے پروگرام، بجٹ اور جوہری سرگرمیوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے افتتاحی اجلاس میں کہا کہ کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے اور تیمور شرقی کو ایجنسی کے 182ویں رکن کی حیثیت سے خوش آمدید کہا گیا ہے۔
ایران کا جوہری پروگرام بھی اس اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل ہے۔ تاہم ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد اسلامی سفری پابندیوں کے باعث اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے، جس پر ایران اور روس کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔
رافائل گروسی نے کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیا کہ 2026 میں ایران کے جوہری پروگرام پر آئی اے ای اے کی نگرانی کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔
گروسی نے ایران پر امریکا اور صہیونی حکومت کے حملوں کی مذمت کیے بغیر کہا کہ فروری کے آخر میں ایران پر دوبارہ حملوں کے بعد ایجنسی کو اپنے معائنہ کار ایران سے واپس بلانے پڑے۔ ان کے مطابق جون میں بوشہر ایٹمی بجلی گھر کے ایک معائنے کے علاوہ گزشتہ چھ ماہ سے زیادہ عرصے میں ایجنسی نے ایران میں کوئی دوسری فیلڈ ویریفکیشن سرگرمی انجام نہیں دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے آئی اے ای اے کو ایران کی اعلان کردہ جوہری تنصیبات میں کم افزودہ یورینیم اور 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق تسلسل معلومات حاصل نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ تنصیبات جون 2025 کے حملوں میں متاثر ہوئی تھیں۔
گروسی نے دعوی کیا کہ ان جوہری مواد کے بارے میں آئی اے ای اے کی معلومات اور ان کی تصدیق کے لیے تنصیبات تک رسائی نہ ہونا جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے ایک سنگین مسئلہ ہے اور اسے فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ